بیدر۔30؍اکتوبر۔(محمد امین نواز/ایس او نیوز )بیدر ۔گُلبرگہ ریلوے لائن کو مکمل ہونے کیلئے20سال بیت گئے ‘مجھے خوشی ہوئی کہ آخر کاریہاں پر ریل سروس شروع کی گئی۔ بیدر۔گُلبرگہ ریلوے لائین کی شروعات سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کی تھی۔لیکن یو پی اے حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ کام طویل مدت تک رکا رہا ۔ ان باتوں کا اظہار وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے بیدر ریلوے اسٹیشن پر بیدر۔گُلبرگہ ریلوے لائن کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بیدر ۔گُلبرگہ ڈیمو پیاسنجر ٹرین کو بھی ہری جھنڈی دکھائی اور بیدر کے نہرو اسٹڈیم میں ایک جلسہ عام کو بھی خطاب کیا۔
جلسہ سے خطاب کرتے وہئے مودی نے کہا کہ بیدر ۔گُلبرگہ ریل شروع کرنے کا انھیں موقع ملا ۔اب بیدر والوں کو بنگلور اور ممبئی کیلئے رابطہ آسان ہوگیا ہے۔مسٹرمودی نے کہا کہ اس ریل کو شروع کرنے میں تقریبا20سال کا عرصہ لگا ہے۔مجھے یہ بات دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پروجیکٹ 4سو کروڑ روپیے سے بھی کم خرچ میں مکمل ہوسکتا تھا‘ لیکن اب اس پروجکٹ پر کافی زائد رقم خرچ کرنی پڑی۔انہوں نے پچھلی سرکار پر الزام لگایا کہ اگر وقت پر دھیان دیا ہوتا تو کم سے کم 7سال میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوگیا ہوتا ۔
وزیر اعظم کے مطابق جب کرناٹک میں یڈی یورپا کی حکومت تھی اور مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی تب یڈی یورپا نے فیصلہ کیا تھا کہ ریاستی سرکار اس کام کیلئے 50فیصد بجٹ دے گی اس کے باوجود اس کام میں تیزی نہیں آئی ۔انھوں نے کہا کہ وقت کی حد پر منحصر مقاصد اور ذمہ داریاں طے ہونا چاہئے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں کئی منصوبے لٹکے رہ گئے ہیں ۔ انھو ں نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار میں اٹکے ہوئے ترقیاتی اسکیمات اب مکمل کئے جارہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کانگریس نے صرف’’ اٹکانا‘ لٹکانا اور بھٹکانا ‘‘پر یقین کیا ہے۔ انھو ں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی اس روایت کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر نہیں آسکا ۔ کسی بھی کام کو ’’ اٹکانے لٹکانے اور بھٹکانے‘‘سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔اگر دیش کو آگے بڑھانا ہوتو یہ اٹکانے ‘لٹکانے او ربھٹکانے کی روایت کو بدلنا ہوگا۔ انھو ں نے کہا کہ ہمارے اقتدار میں نہ اٹکنا چلے گا ‘نہ لٹکنا چلے گا اور نہ بھٹکنا چلے گا۔ ہماری حکومت نے صرف دیش کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے ۔
مسٹر مودی نے مزید کہا کہ ملک میں کسانوں کے نام پر آنسو بہانے والے بہت ہیں اگر کسانوں کو پانی میسر آجائے تو تو وہ مٹی سے سونا اُگا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ زراعتی منصوبہ جات کیلئے کسانوں کو پانی فراہم کیسے کیا جانا چاہئے ‘اس پر ہم نے خصوصی دلچسپی لی اور کام کیا اور انداز 90فیصد کھیتوں میں اس کام کو چلایا گیا۔مسٹرمودی نے بیدر کے رکن پارلیمنٹ بھگونت کھوبا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کہ وہ فصل بیمہ کیلئے بیدر ضلع کے گھر گھر تک جاکر یہ بات پہنچائی اور اندازا دیڑھ کروڑ روپیے فصل بیمہ کے نام پر کسانوں کو فراہم کروایا گیا ۔ مودی کے مطابق انہوں نے لال قلعہ سے اعلان کیا تھا کہ 1000دنوں میں 18ہزار گاؤں میں برقی آجائے گی۔ ابھی وقت پورا بھی نہیں ہوا ہے اور ہم نے تقریبا اپنا وعدہ پورا کرلیا ہے۔
مودی نے کانگریس پر بھرشٹاچار کے اینٹی ڈیسپریسنٹ ہونے کا الزام لگایا ۔انھوں نے کہا کہ جب ہم بھرشٹاچار سے لڑرہے تھے تب کانگریس بے حس ہوچکی تھی ۔کانگریس کی حکومت کے مقابلہ میں اپنی حکومت کوبہتر قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈائریکٹ بینفِٹ ٹرانسفر اسکیم کے ذریعے درمیانی افراد کو ہٹادیا ۔57,000کروڑ روپیے کے حکومت کے Revenueسے جو پیسے درمیانی افراد کو جاتے تھے، اب وہ رقم صحیح حق داروں کو مل رہی ہیں ۔
اس موقع پرسابق چیف منسٹر و ریاستی بی جے پی صدریڈی یور پا‘ سابق چیف منسٹرجگدیش شٹر ‘مرکزی وزراء پیوش گوئیل‘ اننت کمار‘ اننت کمار ہیگڈے ڈی وی سدانند گوڑا ‘ بیدر کے رکن پارلیمنٹ بھگونت کھوبا‘ کے علاوہ ریاست بھر سے آئے بی جے پی کے قائدین ‘کارکنان کے علاوہ نہرو اسٹڈیم لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ***